Friday, February 14, 2025

Kashmiri Gazal

ونیو مئے نا ونس واوس،ونیوتھا

ونن اوسوئے یہ کینژھا تس،ونیوتھا

چھہ تڑپاں تشنہ لب زخمی مسافر

ژہ کر یکھئ یور، دریاوس ونیو تھا

وداسی ہوند اثر ناپاں بتھیس چھی 

جدائی ہوند سبب آنس ونیوتھا

چھؤ ہجرک دود اندری دأرئ ژالاں

ژہ کس پراران،دروازس ونیو تھا

ہوا ژانگیس چھؤ ژھیوراون ہیواں از

دزون چھی نا ژے پروانس ونیو تھا

گژھن آزاد کاتیا ناتواں دل

زلف مژراؤ جانانس ونیو تھا

تمس دیوانہ ساگر سرفرازس

یتھئے کنئ چاک دیون نالس ونیوتھا

ساگر سرفراز 

Saturday, February 4, 2023

غزل ‏۔۔

غزل
سبز پھریروں کا وہ  آنچل برفیلا ہے
سرخ سلاخوں  والا مقتل برفیلا ہے

ٹھنڈی آہوں سے ہر منظر جم جائے گا
 یخ بستہ یادوں  کا  جنگل  برفیلا ہے

جس کے آنسو بارش کی بوندوں جیسے ہیں
اس کی آنکھوں کا وہ کاجل برفیلا ہے 

 مصرع مصرع رنگ تغزل کانپ رہا ہے
  میرا تخیل  آج   مکمل برفیلا  ہے

پرسوں کی مٹھی میں آج کا موسم ہوگا 
 آج کی قید میں یہ میرا کل برفیلا ہے

درد کی چادر تان کے بیٹھا ہوں کمرے میں
 ساگر اس کے ہجر کا ہر پل برفیلا ہے
ساگر سرفراز

Saturday, December 26, 2020

Gazal

وقت کے ہاتھوں بہت مجبور ہو جائیں گے۔ ہم
کیا خبر تھی اس طرح سے دور ہو جائیں گے ہم

رشک آئے گا ہمیں اپنے مقدر پہ ضرور
آپ سے مل کر بہت مغرور ہو جائیں گے

عشق میں بس دوہی باتوں کا ہے خدشہ دوستو
یا بہت بدنام یا مشہور ہو جائیں گے ہم

دیکھ لینا ایک دن نام و نشاں مٹ جائے گا
آپ کی دنیا سے یوں کافور  ہو جائیں گے ہم

ہم تو شیشے سے بھی نازک ہیں، یہ پتھر کس لئے
بس ذرا سی ٹھیس، چکنا چور ہو جائیں گے ہم

اس لئے ہم چاند کو تکتے ہیں پہروں بیٹھ کر
کیا بچھڑ کر آپ سے مہجور ہوجائیں گے ہم

ٹھیک ہے اپنا بچھڑنا بھی ضروری ہے مگر
یاد کرکے آپ کو  رنجور ہوجائیں گے ہم۔

ہم اگر یوں ہی تواتر سے کریں گے ضبط غم
آپ ہی اپنے لئے ناسور ہوجائیں گے ہم

عشق میں تیرے لئے ائے جان ساگر  سرفراز
  کوہکن کس نے کہا منصور ہوجائیں گے ہم

ساگر سرفراز

Monday, April 20, 2020

رہنے دو، اب کچھ مت پوچھو، دکھ ہوتا یے.
    جانے دو،سب باتیں،چھوڑو،دکھ ہوتا ہے۔۔

کہنے دو سچائی مجھ کو، منہ پر ان کے۔
۔۔یار مجھے مت روکو ٹوکو،دکھ ہوتا ہے۔۔

 منزل دور ہے،پاؤں میں چھالے ہیں یارو
 ٹھہرو! سنگ میل پہ لکھو، دکھ ہوتا ہے۔

  لفظوں کے یہ تیر چلانا اچھا ہے کیا؟
 ۔یار کسی کا دل مت توڑو، دکھ ہوتا ہے۔۔

 آہ لگے گی تم کو اس دیوانے دل کی۔
  یوں نہ کسی کو پتھر مارو ،دکھ ہوتا۔۔

شاعر ہوں تنہائی مجھ کو راس آئی ہے۔۔
لوگو!میرے پاس نہ بیٹھو دکھ ہوتا ہے۔۔
ساگر سرفراز
کوئی کہدو ذرا اس کوزہ گر سے
اتارو اب مجھے اس چاک پر سے

سوا تیرے کسے آواز دوں میں۔
کہاں جاؤں گا اٹھ کے تیرے در سے۔۔

مجھے اب نیند بھی آتی نہیں ہے۔۔
میں سوتا ہی نہیں خوابوں کے ڈر سے۔۔

اندھیروں نے مجھے گھیرا ہوا ہے۔۔
مجھے امید ہے شمس و قمر سے

غلامی سے مجھے آزاد کردے۔
بلائیں ٹال دے اب میرے سر سے۔۔

تیری کوزہ گری کو مانتا ہوں۔
اتارو اب مجھے اس چاک پر سے

یہ کس کا گھر ہوا پھر نذر آتش 
دھواں اٹھنے لگا دیوار و در سے۔۔

دعائیں مانگتے رہتے ہیں ساگر۔
بچالے اب ہمیں ہر ایک شر سے..

ساگر سرفراز