رہنے دو، اب کچھ مت پوچھو، دکھ ہوتا یے.
جانے دو،سب باتیں،چھوڑو،دکھ ہوتا ہے۔۔
کہنے دو سچائی مجھ کو، منہ پر ان کے۔
۔۔یار مجھے مت روکو ٹوکو،دکھ ہوتا ہے۔۔
منزل دور ہے،پاؤں میں چھالے ہیں یارو
ٹھہرو! سنگ میل پہ لکھو، دکھ ہوتا ہے۔
لفظوں کے یہ تیر چلانا اچھا ہے کیا؟
۔یار کسی کا دل مت توڑو، دکھ ہوتا ہے۔۔
آہ لگے گی تم کو اس دیوانے دل کی۔
یوں نہ کسی کو پتھر مارو ،دکھ ہوتا۔۔
شاعر ہوں تنہائی مجھ کو راس آئی ہے۔۔
لوگو!میرے پاس نہ بیٹھو دکھ ہوتا ہے۔۔
ساگر سرفراز
جانے دو،سب باتیں،چھوڑو،دکھ ہوتا ہے۔۔
کہنے دو سچائی مجھ کو، منہ پر ان کے۔
۔۔یار مجھے مت روکو ٹوکو،دکھ ہوتا ہے۔۔
منزل دور ہے،پاؤں میں چھالے ہیں یارو
ٹھہرو! سنگ میل پہ لکھو، دکھ ہوتا ہے۔
لفظوں کے یہ تیر چلانا اچھا ہے کیا؟
۔یار کسی کا دل مت توڑو، دکھ ہوتا ہے۔۔
آہ لگے گی تم کو اس دیوانے دل کی۔
یوں نہ کسی کو پتھر مارو ،دکھ ہوتا۔۔
شاعر ہوں تنہائی مجھ کو راس آئی ہے۔۔
لوگو!میرے پاس نہ بیٹھو دکھ ہوتا ہے۔۔
ساگر سرفراز
No comments:
Post a Comment