Monday, April 20, 2020

کوئی کہدو ذرا اس کوزہ گر سے
اتارو اب مجھے اس چاک پر سے

سوا تیرے کسے آواز دوں میں۔
کہاں جاؤں گا اٹھ کے تیرے در سے۔۔

مجھے اب نیند بھی آتی نہیں ہے۔۔
میں سوتا ہی نہیں خوابوں کے ڈر سے۔۔

اندھیروں نے مجھے گھیرا ہوا ہے۔۔
مجھے امید ہے شمس و قمر سے

غلامی سے مجھے آزاد کردے۔
بلائیں ٹال دے اب میرے سر سے۔۔

تیری کوزہ گری کو مانتا ہوں۔
اتارو اب مجھے اس چاک پر سے

یہ کس کا گھر ہوا پھر نذر آتش 
دھواں اٹھنے لگا دیوار و در سے۔۔

دعائیں مانگتے رہتے ہیں ساگر۔
بچالے اب ہمیں ہر ایک شر سے..

ساگر سرفراز

No comments:

Post a Comment