کوئی کہدو ذرا اس کوزہ گر سے
اتارو اب مجھے اس چاک پر سے
سوا تیرے کسے آواز دوں میں۔
کہاں جاؤں گا اٹھ کے تیرے در سے۔۔
مجھے اب نیند بھی آتی نہیں ہے۔۔
میں سوتا ہی نہیں خوابوں کے ڈر سے۔۔
اندھیروں نے مجھے گھیرا ہوا ہے۔۔
مجھے امید ہے شمس و قمر سے
غلامی سے مجھے آزاد کردے۔
بلائیں ٹال دے اب میرے سر سے۔۔
تیری کوزہ گری کو مانتا ہوں۔
اتارو اب مجھے اس چاک پر سے
یہ کس کا گھر ہوا پھر نذر آتش
دھواں اٹھنے لگا دیوار و در سے۔۔
دعائیں مانگتے رہتے ہیں ساگر۔
بچالے اب ہمیں ہر ایک شر سے..
ساگر سرفراز
اتارو اب مجھے اس چاک پر سے
سوا تیرے کسے آواز دوں میں۔
کہاں جاؤں گا اٹھ کے تیرے در سے۔۔
مجھے اب نیند بھی آتی نہیں ہے۔۔
میں سوتا ہی نہیں خوابوں کے ڈر سے۔۔
اندھیروں نے مجھے گھیرا ہوا ہے۔۔
مجھے امید ہے شمس و قمر سے
غلامی سے مجھے آزاد کردے۔
بلائیں ٹال دے اب میرے سر سے۔۔
تیری کوزہ گری کو مانتا ہوں۔
اتارو اب مجھے اس چاک پر سے
یہ کس کا گھر ہوا پھر نذر آتش
دھواں اٹھنے لگا دیوار و در سے۔۔
دعائیں مانگتے رہتے ہیں ساگر۔
بچالے اب ہمیں ہر ایک شر سے..
ساگر سرفراز
No comments:
Post a Comment