غزل
سبز پھریروں کا وہ آنچل برفیلا ہے
سرخ سلاخوں والا مقتل برفیلا ہے
ٹھنڈی آہوں سے ہر منظر جم جائے گا
یخ بستہ یادوں کا جنگل برفیلا ہے
جس کے آنسو بارش کی بوندوں جیسے ہیں
اس کی آنکھوں کا وہ کاجل برفیلا ہے
مصرع مصرع رنگ تغزل کانپ رہا ہے
میرا تخیل آج مکمل برفیلا ہے
پرسوں کی مٹھی میں آج کا موسم ہوگا
آج کی قید میں یہ میرا کل برفیلا ہے
درد کی چادر تان کے بیٹھا ہوں کمرے میں
ساگر اس کے ہجر کا ہر پل برفیلا ہے
ساگر سرفراز
No comments:
Post a Comment