وقت کے ہاتھوں بہت مجبور ہو جائیں گے۔ ہم
کیا خبر تھی اس طرح سے دور ہو جائیں گے ہم
رشک آئے گا ہمیں اپنے مقدر پہ ضرور
آپ سے مل کر بہت مغرور ہو جائیں گے
عشق میں بس دوہی باتوں کا ہے خدشہ دوستو
یا بہت بدنام یا مشہور ہو جائیں گے ہم
دیکھ لینا ایک دن نام و نشاں مٹ جائے گا
آپ کی دنیا سے یوں کافور ہو جائیں گے ہم
ہم تو شیشے سے بھی نازک ہیں، یہ پتھر کس لئے
بس ذرا سی ٹھیس، چکنا چور ہو جائیں گے ہم
اس لئے ہم چاند کو تکتے ہیں پہروں بیٹھ کر
کیا بچھڑ کر آپ سے مہجور ہوجائیں گے ہم
ٹھیک ہے اپنا بچھڑنا بھی ضروری ہے مگر
یاد کرکے آپ کو رنجور ہوجائیں گے ہم۔
ہم اگر یوں ہی تواتر سے کریں گے ضبط غم
آپ ہی اپنے لئے ناسور ہوجائیں گے ہم
عشق میں تیرے لئے ائے جان ساگر سرفراز
کوہکن کس نے کہا منصور ہوجائیں گے ہم
ساگر سرفراز
No comments:
Post a Comment